پاکستان میں ویکسین لگوانے کے اہل ترین افراد میں شامل ہونے پر ایک 27 سالہ ڈاکٹر کو اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرنا چاہیے تھا کیونکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک میں مہلک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں 134 افراد طبی عملے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن یہ 27 سالہ نوجوان ڈاکٹر ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ میرا ارادہ یہی ہے کہ میں ویکسین لگوانے والوں کی فہرست میں اپنے نام کا اندراج نہ کرواؤں۔
اس نوجوان ڈاکٹر نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی استدعا کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ 'ویکسین لگوانے سے ہچکچاہٹ کی وجہ یہ ہے کہ کہیں حکومت ہمیں ’گنی پِگ‘ بنا کر تجربہ نہ کر رہی ہو۔
چین کی جانب سے عطیہ کی جانے والی ویکسین سرکاری دوا ساز کمپنی سائنوفارم نے تیار کی ہے جس کا صدر دفتر بیجنگ میں واقع ہے۔ اگرچہ سائنوفارم کی ویکسین کے استعمال کی ہنگامی منظوری متحدہ عرب امارات، بحرین اور ہنگری سمیت متعدد ممالک میں دی جا چکی ہے لیکن 27 سالہ ڈاکٹر چاہتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے انھیں اس ویکسین کے متعلق مزید معلومات حاصل ہو جائیں۔
0 Comments
if you have any doubts, Please let me know