فریڈی کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں تھا۔ جب وہ پیدا ہوئے تھے تو انھیں امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک کوڑے دان کے پاس اکیلا مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔
جب فریڈی تھوڑے بڑے ہوئے تو انھوں نے اپنے نئے ماں بات سے سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔ اور پھر نیتھن نے انھیں بتایا کہ ’میں بیباک ہو کر کہوں گا کہ آپ کی اصل والدہ نے آپ کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ میں اور بیٹی آپ کو یتیم خانے میں بھیجنا نہیں چاہتے تھے اس لیے ہم نے آپ کو گود لیا۔‘
فریڈی بتاتے ہیں کہ ’ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران میں اور میرے والد کچرے میں چیزیں تلاش کرنے جایا کرتے تھے۔ وہ آس پاس کے مختلف علاقوں میں جا کر پھینکی ہوئی چیزیں ڈھونڈتے تھے۔‘
جیسے ایک محاورہ ہے کہ ایک ہی چیز کسی کے لیے کچرا اور کسی کے لیے خزانہ ہوتی ہے۔‘
ان کے والد انھیں ایک سیکنڈ ہینڈ سامان کی دکان پر لے گئے تھے۔ انھوں نے وہاں ایک سیلز مین کو منا لیا کہ وہ انھیں ایک پُرانا، خراب کمپیوٹر محض 24 ڈالر میں فروخت کر دیں۔
فریڈی نے جیسے ہی کمپیوٹر کی زبانیں سیکھنا شروع کیں تو انھیں ان کی پہلی نوکری مل گئی۔
اس وقت ان کی عمر صرف 12 سال تھی۔
فریڈی نے جیسے ہی کمپیوٹر کی زبانیں سیکھنا شروع کیں تو انھیں ان کی پہلی نوکری مل گئی۔ اس وقت ان کی عمر صرف 12 سال تھی۔
21 سال کی عمر میں فریڈی کو ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹر کا لائسنس مل چکا تھا۔ وہ سب سے کم عمر اور پہلے افریقی نژاد امریکی شہری تھے جسے یہ لائسنس ملا۔
فریڈی سب کو ایک ہی مشورہ دینا چاہتے ہیں: ’حالات کی وجہ سے خود کو محدود نہ ہونے دیں اور دوسرے لوگوں کو بھی مواقع فراہم کریں۔‘
0 Comments
if you have any doubts, Please let me know