یہ واقعہ اس لحاظ سے انتہائی سنگین ہے کیونکہ سافٹ ویئر کی خرابی نے سیکڑوں قیدیوں کو مہینوں تک رہائی سے محروم رکھا ہوا ہے

ایریزونا: امریکی ریاست ایریزونا میں سیکڑوں قیدی اپنی رہائی کی تاریخ گزر جانے کے باوجود کئی مہینوں سے قید ہیں، جس کی وجہ کمپیوٹر پروگرام کی خامیاں ہیں جنہیں تقریباً ڈیڑھ سال بعد بھی دور نہیں کیا گیا۔

خبروں کے مطابق ’’ایریزونا ڈیپارٹمنٹ آف کریکشنز‘‘ (محکمہ جیل خانہ جات) نے پوری اسٹیٹ کی جیلوں میں قیدیوں کی معلومات اور ان کی رہائی سے متعلق امور کو خودکار بنانے کےلیے 2019 میں ایک خصوصی سافٹ ویئر ’’ایریزونا کریکشنل انفارمیشن سسٹم‘‘ (اے سی آئی ایس) بنوایا تھا۔

تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’اے سی آئی ایس‘‘ میں 14 ہزار تکنیکی خامیاں سامنے آئی تھیں جن کے بارے میں اعلی حکام کو خبردار بھی کردیا گیا تھا۔ لیکن حکام نے تمام ملازمین کو ’’خاموش رہنے‘‘ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس سافٹ ویئر پر خطیر رقم خرچ ہوچکی ہے لہذا اس کا استعمال ہر صورت میں شروع کردیا جائے گا۔

یہ صورتِ حال گزشتہ 16 ماہ سے جوں کی توں برقرار ہے اور ایریزونا کی جیلوں میں سیکڑوں قیدی صرف سافٹ ویئر کی خرابی کے باعث قید ہیں، حالانکہ ان کی رہائی کا وقت گزرے ہوئے بھی کئی مہینے گزر چکے ہیں۔


ویسے تو سافٹ ویئر کی خرابی سے دنیا میں تقریباً روزانہ ہی کچھ نہ کچھ مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ واقعہ اس لحاظ سے مختلف اور زیادہ سنگین ہے کیونکہ سافٹ ویئر کی خرابی نے سیکڑوں قیدیوں کو مہینوں تک رہائی سے محروم رکھا ہوا 
 ہے۔